بیوٹی پارلر کی ملازمت کا حکم
سوال
کیا پارلر کی ملازمت حلال ہے یا حرام ہے؟
جواب
اگر سوال عورت کے بیوٹی پارلر کی ملازمت سے متعلق ہے تو حکم یہ ہے کہ شریعت نے عورت کو گھر میں رہنے کا حکم دیاہے،بلاضرورت عورت کا گھر سے باہر جانااور کسی بھی ملازمت سے منسلک ہونادرست نہیں، البتہ اگر کسی مجبوری کی بنا پر عورت بیوٹی پارلر میں ملازمت کرتی ہے تو شرائط کے ساتھ اس کی اجازت ہوگی مثلاً: وہاں کاماحول غیر شرعی نہ ہو۔مردوں سے اختلاط نہ ہو، پارلر صرف عورتوں کی زیب وزینت کے لیے مختص ہو،کسی ناجائز امرکاارتکاب نہ ہومثلاً: عورتوں کے سر کے بالوں کا کاٹنا ،غیر شرعی بھنویں بنوانا وغیرہ۔
اس مسئلہ کی مزید تفصیل کے لیے فتاوی بینات جلد چہارم ، ص:403 تا 407 ،طبع مکتبہ بینات بنوری ٹاؤن ملاحظہ فرمائیں۔فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

