بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کمپنی کے لوگو والی شرٹ میں نماز ادا کرنا

سوال

کیا کسی یونیفارم یا وردی شرٹ وغیرہ  پہنتے ہوئے نماز جائز ہے ? 

یونیفارم یا وردی شرٹ وغیرہ پر اگر کسی غیرمسلم ملک کی کمپنی کا لوگو یا تصویر  ہے تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے ؟

جواب

1۔ نماز صحیح ہونے کی شرائط میں سے ہے کہ لباس طاہر (پاک) اور ساتر (ستر کو ڈھانپنے والا ہو) ؛  لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر یونیفارم طاہر و ساتر ہے تو نماز ہو جائے گی۔

2۔ شرٹ وغیرہ پر  اگر جاندار کی  تصویر  نہیں ہے، (اور کوئی خارجی مانع بھی نہیں ہے،) صرف کسی کمپنی کا لوگو ہے تو  کوئی حرج نہیں، تاہم کشادہ لباس میں نماز ادا کرنا اولیٰ ہے۔اور اگر یونیفارم پر جاندار کی واضح تصویر ہو تو ایسے لباس میں نماز ادا کرنا مکروہ ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200057
تاریخ29-04-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں