بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سیونگ اکاؤنٹ میں رکھوائی گئی رقم کاروبار میں لگوانا

سوال

مفتیان کرام کیا فرماتے ہیں اس مسئلے کے بارے میں :

خالد نے نعمان کو دس لاکھ روپے بطور انویسٹمنٹ کے نفع و نقصان کی شراکت داری پر دیے ۔ جس میں خالد کی رقم دس لاکھ روپے ہیں، جس پر منافع 20% طے ہوا ہے، اب تین مہینے کام کیا، مگر بجائے فائدہ کے مسلسل نقصان ہی ہورہا ہے ۔ تین ماہ بعد نعمان کو معلوم ہوا کہ خالد نے جو رقم کاروبار میں لگائی ہے وہ سیونگ اکاؤنٹ سے دی گئی ہے جو کہ سراسر سودی اکاؤنٹ ہے تو کیا ایسی صورتِ حال میں اس سیونگ اکاؤنٹ والی رقم سے منافع حاصل کرنا یا کاروبار کرنا جائز ہے ؟ کیا نقصان دونوں طرف تقسیم ہوگا؟ کیوں کہ اگر اس کا حکم سودی نظام پر ہے تو مجھے جتنا بھی نفع ہوا ہوتا میں وہ چھوڑ دیتا، مگر اب جب کہ سراسر نقصان ہی نقصان ہوا ہے تو کیا نقصان برداشت کرنا دونوں فریقین پر ہوگا یا ایک پر؟

جواب تفصیل کے ساتھ عنایت فرمائیے!

جواب

صورتِ مسئولہ میں مسمی خالد نے جو رقم تجارت کی غرض سے مسمی نعمان کو نفع نقصان کی شرح طے کر کے دی تھی، اگرچہ  اپنے سیونگ اکاؤنٹ سے رقم دی  تھی، البتہ شرعاً شراکت داری  درست تھی ؛ لہذا نقصان کی صورت میں دونوں فریق حسبِ شرح نفع نقصان کے  ذمہ دار ہوں گے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200045
تاریخ26-04-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں