طلاق کے وسوسہ میں زبان ہل جائے تو طلاق کے واقع ہونے کا حکم
سوال
بار بار طلاق کے وسوسہ آنے سے اگر زبان ہل جاۓ تو طلاق واقع ہو جاتی ہے یا نہیں؟
جواب
طلاق کےوساوس کی وجہ سے زبان ہل گئی، لیکن آواز منہ کے اندر ہی رہی نہ خود سنی نہ قریب مو جو دکسی اورشخص کو سنائی دی تو اس طرح زبان کے ہلنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
143908200002
تاریخ17-04-2018

