بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

انسانی بال سے ایندھن بنانا

سوال

میں یونیورسٹی کا طالب علم ہوں  میں ریسرچ کر رہا ہوں کہ انسانی بال کو جلاکر کتنا ایندھن حاصل کیا جاسکتا ہے؟ تاکہ انسانی بال ضائع کرنے کے بجائے اس سے ایندھن بنایا جا سکے۔کیا یہ تجربہ کرنا اور بالوں سے ایندھن حاصل کرنا درست ہے؟

جواب

واضح رہے کہ انسان کے تمام اعضاء اللہ رب العزت کی امانت ہیں، جن کی خرید و فروخت یا اس سے کسی قسم کا فائدہ اٹھانا شرعا جائز نہیں ہے۔  جیساکہ '' البحر الرائق'' میں ہے:

'' (وشعر الإنسان و الانتفاع به) أي لم يجز بيعه و الانتفاع به؛ لأن الآدمي مكرم غير مبتذل، فلايجوز أن يكون شيء من أجزاء ه مهاناً مبتذلاً'' . (٦/ ٨١ ط: رشيدية)

لہذا صورتِ مسئولہ میں انسانی بالوں کو جلا کر اس سے ایندھن حاصل کرنا شرعا جائز نہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143907200155
تاریخ16-04-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں