بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دل ہی دل میں طلاق دینا

سوال

 اگر دل ہی دل میں طلاق دے، یعنی کہ "میں نے طلاق دے  دی ہے"، دل ہی دل میں کہے۔ لیکن یہی الفاظ منہ سے نہ بولے، بلکہ دل میں طلاق دے تو کیا اس طرح طلاق واقع ہو جا تی ہے؟

جواب

دل ہی دل میں طلاق دینے سے طلاق نہیں ہوتی ،مذکورہ الفاظ دل ہی دل میں کسی شخص نے ادا کیے تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوئی۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143907200154
تاریخ16-04-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں