بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

داڑھی کی گستاخی کرنے والے کاحکم

سوال

 اگر کوئی انسان حضورِ پاک  صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی کی گستاخی کرے تو اس کے لیے کیا بیان ہے ؟

  

جواب

داڑھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی سنت اور شعائرِ اسلام میں سے ہے، اس کی گستاخی کرنا اور مذاق اڑانا  دراصل سنت اور شعائرِ اسلام کامذاق اڑانا ہے جو کفر تک پہنچادینے والا عمل ہے، اور پھر اگر رسول اللہ صلی اللی علیہ وسلم کی ریش مبارک کا مذاق اڑائے تو یہ مزید بد بختی اور شقاوت کی علامت ہے ؛ اس لیے ایساکرنے والے کو سچی توبہ اور نکاح کی تجدید کا حکم دیا جائے گا۔ (مستفاد: فتاویٰ محمودیہ  )

نوٹ :  داڑھی کی توہین کے حوالے سے یہ عمومی مسئلہ بیان کیا گیاہے، اس کی بنیاد پر کسی خاص فرد کو نشانہ نہ بنایا جائے جب تک کسی مستند دارالافتاء سے اس کے بارے میں معلومات حاصل نہ کرلیں۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143907200151
تاریخ16-04-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں