رہائش کے لیے جو پلاٹ لیا ہو کیا اس پر زکات ہے؟
سوال
میں نے اپنے گھر کی تعمیر کے لیے ایک پلاٹ والدہ کے نام پر سولہ لاکھ میں لیا تھا، مگر پھر گھر کسی اور جگہ تعمیر کر لیا، اب وہ پلاٹ خالی ہے، کیا اس پر زکاۃ واجب ہوگی؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ پلاٹ چوں کہ آپ نے رہائشی گھر تعمیر کرنے کے لیے لیا تھا؛ لہذا اس پلاٹ پر کوئی زکات واجب نہیں، البتہ جب کبھی یہ پلاٹ فروخت کریں گے تو اس وقت اس کی کل آمدن پر زکات ادا کرنا لازم ہوگا۔ فقط و اللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
143907200150
تاریخ16-04-2018

