بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رہائش کے لیے جو پلاٹ لیا ہو کیا اس پر زکات ہے؟

سوال

میں نے اپنے گھر کی تعمیر کے لیے  ایک پلاٹ والدہ کے نام پر سولہ لاکھ میں لیا تھا،  مگر پھر گھر کسی اور جگہ تعمیر کر لیا، اب وہ پلاٹ خالی ہے، کیا اس پر زکاۃ واجب ہوگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ پلاٹ چوں کہ آپ نے رہائشی  گھر تعمیر کرنے کے لیے  لیا تھا؛  لہذا اس پلاٹ پر کوئی زکات واجب نہیں، البتہ جب کبھی یہ پلاٹ فروخت کریں گے تو اس وقت اس  کی کل آمدن پر زکات ادا کرنا لازم ہوگا۔ فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143907200150
تاریخ16-04-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں