بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عشاء کب قضا ہوتی ہے؟

سوال

اگر کوئی شخص عشاء کی اذان سن کر سو گیا، اور فجر سے پہلے بیدار ہوا تو کیا عشاء قضا شمار ہوگی؟

جواب

عشاء کا انتہاءِ وقت صبح صادق ہے ؛ لہذا صورتِ مسئولہ میں  اگر صبح صادق سے پہلے عشاء ادا کرلی تو عشاء قضا شمار  نہیں ہوگی،   البتہ صبح صادق کے بعد عشاء  کا وقت ختم ہوجاتا ہے اس وقت عشاء ادا کی تو  نماز قضا شمار ہوگی۔ 

واضح رہے کہ عشاء ادا کرنے سے پہلے سونا  مکروہ ہے، نیز  آدھی رات کے بعد تک  عشاء کو مؤخر کرنا بھی مکروہ ہے۔ لہذا  عشاء کی اذان کے بعد نماز سے پہلے  سونے  اور آدھی رات تک عشاء مؤخر کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔  حدیث شریف میں ہے:

"عن ابي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلي الله عليه وسلم كان يكره النوم قبل العشاء. (رواه الستة في كتبهم و البخاري في باب ما يكره من النوم قبل العشاء)

قال الطحاوي: إنما يكره النوم قبلها لمن خشي عليه فوت وقتها أو فوت الجماعة فيها و اما من وكل نفسه الي من يوقظه فيباح له النوم. ( شامي كتاب الصلاة ١/٣٦٨)۔فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143907200148
تاریخ15-04-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں