بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شریم نام رکھنا

سوال

"شریم" نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

لغو ی معنی کے لحاظ سے "شریم" کامعنی "کٹی ہوئی ناک" یا "کٹے کان والا " ہے، نیز "شارم" چیرنے والے تیر کو کہتے ہیں، اس مناسبت سے ایک معنی چیرنے والا بھی ہوسکتاہے؛ بہرحال یہ نام نہ رکھا جائے۔

واضح رہے کہ ""شریم"" عرب کے ایک قبیلہ کا نام ہے ؛ اس لیے عرب میں اس قبیلے کی طرف نسبت کرتے ہوئے بعض ناموں کے آخر میں یہ لکھا جاتاہے۔فقط و اللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143907200123
تاریخ10-04-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں