بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اسلامک چائلڈ فنڈ میں جمع شدہ رقم پر زکاۃ

سوال

لندن میں ایک "اسلامک چائلڈ فنڈ" ہے، جس میں حکومت اور بچے کے والدین پیسے ڈالتے ہیں،جب بچہ 18 سال کی عمر کا ہو جاتا ہے تو پھر وہ اس پیسے کو استعمال کرسکتا ہے،اس بچے کے علاوہ کوئی بھی اس کو استعمال نہیں کر سکتا ، ہاں اگر بچہ 18 سال کی عمر سے پہلے مرجائے تو پھر یہ مال اس کے والدین کو ملے گا ۔ورنہ اس مال کو استعمال کرنے کا حق صرف بچے کو ہے جب وہ 18 سال کا ہوجائے ۔پوچھنا یہ ہے کہ اس مال میں زکاۃ والدین پر لازم ہوگی جب تک بچہ نابالغ ہے ؟یا والدین پر اس کی کوئی زکاۃ نہیں ہے؟

جواب

جومال بچے کے لیے مختص فنڈ میں جمع کرادیا جائے اس طورپر کہ والدین اسے استعمال کرنے کے مجاز نہ ہو ں تو بچے کے بالغ ہونے تک  اس رقم پر زکاۃ لازم نہیں ہوگی ۔ اس لیے  کہ والدین کی ملکیت سے رقم نکل گئی اور بچہ مکلف نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143907200114
تاریخ08-04-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں