بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

وجود میں آنے سے قبل فلیٹ کی خریداری کا حکم

سوال

آج کل پاکستان میں اکثر لوگ بکنگ میں فلیٹ یا بنگلہ لیتے ہیں، مثال کے طور پر ایک خالی پلاٹ پڑا ہے ،بلڈر نے اس پلاٹ میں آفس بنایا ہے اور لوگوں کو بتایا ہے اس پلاٹ میں بلڈنگ بنا رہاہوں ۔ہر بندہ اپنی مرضی کے مطابق فلیٹ نقشے میں پسند کرتا ہے، دس فیصد یا بیس فیصد پیسےنقد دیتاہے، اور بقایا پیسے شیڈول کے قسطوں  میں اداکرتاہے۔ اس  طرح بلڈنگ میں فلیٹ لینا شریعت کے حکم سے کیسا ہے؟

جواب

جس فلیٹ یا گھر کاوجود نہ ہو محض نقشہ بناہو ایسے فلیٹ یا گھر کی بیع  شے معدوم ہونے کی بنا پر  درست نہیں ہے۔البتہ یہ صورت اختیارکی جاسکتی ہے کہ وجودمیں آنے سے قبل فلیٹ یا بنگلہ  کی خریدوفروخت کی بجائے وعدہ بیع کرلیاجائے، اوروعدہ بیع کی صورت میں کچھ رقم ایڈوانس کے طورپراداکی جائے ۔اورجب وہ فلیٹ یا بنگلہ وجودمیں آجائے پھرمکمل طورپرخریدوفروخت کی بات کردی جائے۔ (الہدایۃ 3/46ط:المکتبۃ الاسلامیۃ)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143907200081
تاریخ03-04-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں