بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عور ت کا تراویح کی جماعت کرانا

سوال

ایک خاتون گھر میں بچیوں کو حفظ کرواتی ہیں، ان کی بیٹی بھی حافظہ ہے،کیا ان کی بیٹی اور محلے کی دو لڑکیاں جو ان کی شاگرد ہیں مل کر حفظ کی دہرائی کے لیے تراویح ساتھ ادا کر سکتی ہیں؟ اور کیا ان کے ساتھ والدہ اور بہنیں بھی کھڑی ہو سکتی ہیں؟

جواب

عورت کا امام بن کر عورتوں کو تراویح کی جماعت کرانا مکروہ تحریمی ہے، لہذا مذکورہ خاتون کی بچی اور ان کی شاگردہ کے لیے جائز نہیں کہ وہ تراویح کی جماعت کرائیں، پیچھے کھڑی ہونے والی خواتین کی تراویح بھی مکروہ ہوگی۔

 (و) يكره تحريما (جماعة النساء) ولو التراويح۔

و فی الرد: (قوله ويكره تحريما) صرح به في الفتح والبحر (قوله ولو في التراويح) أفاد أن الكراهة في كل ما تشرع فيه جماعة الرجال فرضا أو نفلا۔

رد المحتار (1/ 565) ط: سعید۔  فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143907200079
تاریخ03-04-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں