بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

وقف دکان بیوٹی پارلر کے لیے کرائے پر دینا

سوال

ایک مکان جو مسجد کی ضروریات کے لیے وقف ہوا وہاں امام صاحب کی رہائش اور ایک دوکان بنائی گئی۔کچھ عرصہ قبل دوکان ایک خاتون نے کرائے پر لی اور وہاں بیوٹی پارلر کھول لیا۔اس وقت انتظامیہ وغیرہ نے اس مسئلے پر توجہ نہیں دی۔ مکان کی خستہ خالت کی وجہ سے دوبارہ تعمیر کیا جا رہا ہے۔اب مسئلہ یہ ہے کہ تعمیر کے بعد کیا وہ خاتون دوبارہ وہاں بیوٹی پارلر کھولنا چاہتی ہیں۔ اس بارے میں درج ذیل سوالات پر شرعی حکم معلوم کرنا ہے:

1. کیا مسجد انتظامیہ یہ دوکان بیوٹی پارلر کے لیے کرائے پر دے سکتی ہے؟ اور اگر ان شرائط کے ساتھ کرائے پر دی جائے کہ وہاں غیر شرعی کام نہیں ہو گا، جیسے خواتین کے بال کاٹنا، بھویں کاٹناوغیرہ ، تو کیا گنجائش نکل سکتی ہے؟ ویسے شرائط کی پابندی کے لیے صرف ان پر اعتماد کیا جائےگا انتظامیہ اس کومانیٹر نہیں کر پائےگی۔

2. ان دونوں صورتوں میں بیوٹی پارلر کا کرایہ مسجد کے لیے کیسا ہے؟ اور اگر شرعی طور پر بیوٹی پارلر بنانا ٹھیک نہ ہو اور پھر بھی مسجد انتظامیہ دوکان بیوٹی پارلر کے لیے  کرائےپر دے تو کیا گناہ کی صورت ہو گی؟

جواب

اگر بیوٹی پارلر جائز امور کی حد تک محدود ہویعنی وہاں کاماحول غیر شرعی نہ ہو،مردوں سے اختلاط نہ ہو، پارلر صرف عورتوں کی جائز زیب وزینت کے لیے مختص ہو،اور وہاں کسی ناجائز امرکاارتکاب نہ ہو، مثلاً: عورتوں کے سر کے بال کاٹنا ، بھنویں بنوانا وغیرہ۔ تومسجد کی دوکان   انہیں کرایہ پر دینااور  کرایہ لینا درست ہوگا۔

اور اگرگمانِ غالب یہ ہو کہ  بیوٹی پارلرکی دوکان میں  شرعی حدود کا لحاظ نہیں رکھاجائے  گا تو انہیں یہ  دوکان  کرایہ پر نہ دی جائے، غیر شرعی امور کے ارتکاب کی   صورت میں کرایہ لینا درست نہیں ہوگا۔فقط اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143907200077
تاریخ02-04-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں