بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق کا وسوسہ آنا

سوال

" کلما"  طلاق کے بارے میں بندہ کو وسوسہ آتا ہے ، کبھی کبھی وسوسہ آنے کے بعد بندہ نے زبان سے کہا " اے اللہ میں نہیں کہتا، اگر کوئی شخص کہے (مثلًا زید) کہ میں جس عورت سے نکاح کروں اسے طلاق " . اب سوال یہ ہے کہ ایسا کہنے سے کیا میرے لیے تجدیدِ نکاح یا نکاح فضولی کی ضرورت ہے ؟

 

جواب

طلاق کے وساوس پر توجہ نہ دیں،  جو الفاظ آپ نے کہے، ان سے نہ تجدیدِ نکاح کی ضرورت ہے، نہ  نکاحِ فضولی کی۔ فقط واللہ اعلم

 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143907200074
تاریخ01-04-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں