بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیچی ہوئی چیز ادھار پر مہنگے داموں خریدنا

سوال

زید نے اپنا موبائل فون بکر کو ۱۰۰۰ روپے کے عوض فروخت کیا ، بکر نے زید کو ۱۰۰۰ دےکر موبائل پر قبضہ کر لیا، دو دن بعد زید بکر کے پاس آیا اور کہا کہ آپ اپنا موبائل مجھے بیچو گے ؟ بکر نے کہا کہ ۱۲۰۰ روپے میں فروخت کروں گا، تو زید نے کہا کہ میں ۱۲۰۰ روپے دو ماہ میں ادا کروں گا ، بکر نے کہا کہ مجھے منظور ہے ،کیا یہ معاملہ شرعی طور پر درست ہے ؟

جواب

اگر پہلے سے یہ طے نہ ہو کہ میں خرید کر آپ پر مہنگے داموں ادھار پر بیچوں گا تو  قیمت ادا کرنے کے بعد بیچی ہوئی چیز کو مہنگے داموں خریدنا جائز ہے، لیکن اگر پہلے سے یہ طے ہوجائے کہ میں آپ سے نقد خرید کر ادھار زیادہ داموں پر بیچوں گا تو یہ معاملہ مکروہِ تحریمی (ناجائز)ہے۔فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143907200064
تاریخ30-03-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں