بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عدالت کے ذریعہ خلع حاصل کرنا

سوال

میری بیوی نے والدین کی باتوں میں آ کر خلع کا کیس دائر کر دیا تو عدالت نے خلع کی ڈگری جاری کر دی ہے ۔تقریباً 3 مہینے پہلے،میں بیرون ملک مقیم ہوں تو والد کو وکیل بنایا تھا ساری کاروائی انہوں نے کی تھی، اور اب بیوی رجوع کی طرف مائل ہو گئی ہے۔ تو اب رجوع کا کیا طریقہ کار ہوگا؟

جواب

اگرعدالت نے خلع کی ڈگری آپ کی رضامندی کے بغیر یک طرفہ جاری کی ہے تو یہ خلع شرعی لحاظ سے نافذ نہیں۔اس سے عورت نکاح سے خارج نہیں ہوئی دونوں کا نکاح بدستور برقرار ہے۔

البتہ اگر خلع کی ڈگری آپ کی رضامندی سے جاری ہوئی ہو  اور کارروائی کے لیے آپ نے اپنے والد کو وکیل مقرر کیاہو اور عدالتی کاغذات میں فقط خلع ہی کے ذریعہ جدائی کی گئی ہو تواس صورت ایک طلاق بائن واقع ہوگئی ہے اور نکاح ٹوٹ چکا ہے، اب  آپ گواہوں کی موجودگی میں جدید نکاح کرسکتے ہیں اور آئندہ کے لیے آپ کو فقط دو طلاق کا حق حاصل ہوگا۔اور اگر عدالتی کارروائی میں خلع کی بجائے طلاق کے ذریعہ تفریق کی گئی ہو اور یہ تفریق آپ کی رضامندی سے ہوتو کاغذات میں درج عبارات ارسال کرکے دوبارہ جواب حاصل کرلیں۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143907200047
تاریخ28-03-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں