بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قضائے حاجت کے دوران اذان کے الفاظ دہرانے کا حکم

سوال

عموماً ایسا ہوتا ہے کہ انسان بیت الخلا ءمیں ہوتاہے کہ اذان کی آواز کانوں میں پڑتی ہے تو دماغ خود بخود اذان کو دہرانا شروع کر دیتا ہے  تو ایسے میں کیا کرنا چاہیے؟

جواب

بیت الخلاء میں اذان کے کلمات سن کر دماغ میں ان کا خیال آجانے میں حرج نہیں، لیکن اس حالت میں زبان سے ان کو دہرانا یا اذان کا جواب دینا جائز نہیں۔ فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143906200101
تاریخ16-03-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں