بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

’’جا میں تنو طلاق دینا‘‘کے الفاظ سے طلاق کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ :

میاں بیوی کے درمیان جھگڑا ہوا اور دونوں نے ایک دوسرے کو بُرا بھلا کہا اور بالآخر شوہر نے بیوی کو چار مرتبہ پنجابی زبان میں یہ الفاظ کہے کہ ’’جا میں تنو طلاق دینا‘‘۔ اب پوچھا یہ ہے کہ ان الفاظ سے کون سی اور کتنی طلاقیں واقع ہوئیں ہیں؟

جواب

شوہر نے بیوی سے چار مرتبہ جو مذکورہ الفاظ کہے ہیں کہ  ’’جا میں تنو طلاق دینا‘‘ان الفاظ سے تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں، اور بیوی اپنے شوہر پر حرام ہوچکی ہے،اب دونوں کااکٹھے رہناجائز نہیں ہے،اور تین طلاق دینے کے بعد رجوع بھی نہیں ہوسکتا۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143906200097
تاریخ14-03-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں