بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تکافل پالیسی اختیار کرنے کا حکم

سوال

عرض یہ ہے کہ آپ کا ادارہ تکافل کو ناجائز کہتا ہے اور دوسرے دارالافتاء اسے جائز کہتے ہیں اور بقول آپ کے حرمت اور حلت میں اختلاف کی صورت میں عوام کےلیے احتیاط حرمت والے حکم میں ہے۔ لیکن میرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی حلت کا فتوی دینے والے علماء پر اعتماد کرتے ہوئے تکافل پالیسی اختیار کرے یا اس میں ملازمت کرے تو وہ گنا ہ گار ہوگا یا نہیں؟ اگر ہوگا تو کیوں؟

جواب

جو علماء تکافل کو ناجائز کہتے ہیں ان کے نزدیک اگر کوئی تکافل پالیسی لے گا یا ملازمت اختیار کرے گا تو وہ گناہ گار ہوگا۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143906200095
تاریخ14-03-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں