بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مہرفاطمی کی مقدار کے برابر سونا دینے کا حکم

سوال

مہر میں مہر فاطمی دینا چاھتے ہیں ، کیا مہر فاطمی میں رقم کی جگہ سونا دے سکتے ہیں ؟ جب کہ مہر فاطمی کی مالیت تقریبا ایک لاکھ5 ہزار ہے اور اس کے عوض اگر 2 تولے سونا دیں تو وہ تقریبا ایک لاکھ 4 ہزار  مالیت بنتی ہے ، کیا اس کی جگہ تین تولے سونا دے سکتے ہیں ؟ کیا ایسے لکھ سکتے ہیں مہر فاطمی بصورتِ تین تولے سونا ؟

جواب

مہر فاطمی کی مقدار احادیث میں ساڑھے بارہ اوقیہ منقول ہے، اور ایک اوقیہ چالیس درھم کا ہوتا ہے، تو اس حساب سے مہر فاطمی کی مقدار پانچ سو درھم  چاندی بنتی ہے،  موجودہ دور کے حساب سے اس کی مقدار ایک سو اکتیس تولہ تین ماشہ چاندی ہے، اور گرام کے حساب سے 1.5309 کلو گرام چاندی ہے۔  مہرفاطمی کی سنت پر عمل کرنے کے لیے بہتر تو یہ ہے کہ اتنی مقدار چاندی دی جائے، لیکن  اگر چاندی نہ دی جائے تو نکاح نامے یہ الفاظ لکھ دیے جائیں کہ '' مہر فاطمی بصورتِ سونا یا بصورتِ نقد''، اور پھر مہرفاطمی کی مالیت کے بقدر ہی سونا یا نقدی دی جائے تو مہر فاطمی کی سنت ادا ہوجائے گی۔ فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143906200073
تاریخ06-03-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں