بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کرنا

سوال

  میں شادی شدہ ہوں، میری عمر 42 سال ہے، 3 بچے ہیں، میں دوسری شادی کرنا چاہتا ہوں، لیکن بیوی کسی صورت ماننے کےلیے تیار نہیں، ایسی صورت میں کیا کروں؟ میں اپنی بیوی بچوں کو نہیں چھوڑنا چاہتا۔

جواب

اگر آپ کے  پاس دو بیویوں کے اخراجات کی گنجائش ہے اور دونوں کے درمیان نان ونفقہ اور شب باشی میں برابری کرسکتے ہیں، تو  دوسری شادی کرنا شرعاً بلا کراہت جائز ہے،  اگرچہ پہلی بیوی اجازت نہ بھی دے۔ تاھم بہتر یہ ہے کہ پہلی بیوی کو رضامند کرکے دوسری شادی کریں ؛ تاکہ آئندہ کی زندگی میں سکون اور اطمینان ملے، اور دوسری شادی کامقصدپوری طرح  حاصل ہو۔فقط واللہ اعلم  

 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143906200055
تاریخ02-03-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں