بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غیر مسلم کے ساتھ کھانا پینا اور اسے سلام کرنا

سوال

میں ایک سکول میں پڑھاتی ہوں۔ سکول میں میرے ساتھ عیسائی ٹیچرز بھی پڑھاتی ہیں اور بہت سے عیسائی بچے بھی میرے پاس پڑھتے ہیں، سکول میں تمام ٹیچرز مل کر برتنوں میں کھاتے پیتے ہیں۔ ان سے بار بار ہاتھ ملانا پڑتا ہے کیا ہاتھ دھوئے بغیر کھانا کھایا جا سکتےہیں؟

کیا ہم اکٹھے برتن استعمال کرسکتے ہیں؟ جب کہ گلاس، پلیٹ اور چمچ الگ رکھنا مشکل ہے کیوں کہ الگ برتن رکھنے سے ساتھ والی ٹیچرز ناراض ہتی ہیں۔

عیسائی بچے اور ساتھ کام کرنے والے عیسائی ٹیچرز جب السلام علیکم کہیں تو ان کو کیا جواب دیں؟ جب وہ ہم سے ملیں تو ہم ان کو کیسے سلام کریں؟

جواب

غیر مسلم(ہندو ہو یا عیسائی یا کوئی اور) کے ہاتھ اور منہ پر اگر ظاہری نجاست لگی ہوئی نہ ہو تو ان کے ساتھ کبھی کبھار ایک ہی برتن میں کھانا کھانے میں کوئی حرج نہیں، البتہ ان کے ساتھ دوستانہ اورقلبی محبت رکھنے کی اجازت نہیں،

نیز کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ دھونا ایک مستقل سنت ہے، خواہ ہاتھ پاک  بھی ہوں ،خود بھی اس پر عمل کریں اور ساتھ کھانا کھانے والے دوسرے غیر مسلموں کو بھی اس کی ترغیب دیں۔

 غیر مسلم سے سلام میں پہل کرنا جائز نہیں، سلام کے بغیرحال احوال پوچھے جاسکتے ہیں، اگر وہ سلام میں پہل کریں تو جواب میں صرف ’’وعلیکم ‘‘کہیِں، فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143906200034
تاریخ25-02-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں