بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیع یک طرفہ طورپر مسنوخ نہیں ہوسکتی

سوال

 زید ایک گھر کا سودا کرتا ہے چار ماہ مدت طے پاتی ہےزید اس مد میں کچھ رقم ادا بھی کردیتا ہے اب زید کو ایک اور گھر پہلےوالے کی نسبت کم قیمت میں دستیاب ہے، کیا زید پہلے سودے کو ختم کر سکتا ہے؟ 

 

جواب

سودا مکمل ہوجانے کے بعد اب زید  یک طرفہ طور پر اس  سودے کو ختم نہیں کرسکتا،البتہ  بیچنے والے کی رضامندی ہو تو سودا ختم کیا جاسکتاہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143906200030
تاریخ23-02-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں