بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایسا بازار بنانا جس میں دوکانداربھی خواتین ہوں

سوال

خواتین کے لیے  ایسی مارکیٹ بنانا جس میں دُکان دار بھی خواتین ہی ہوں اور اس میں مردوں کا داخلہ ممنوع ہو،  کیا شرعاً اس کی اجازت ہے؟

جواب

 شرعاً مرد کے ذمہ ہے کہ کما کر  اپنی  زیر کفالت خواتین اور نابالغ  بچوں کے نان نفقہ اور دیگر ضروریات کا بندوبست کرے ، عورت کی ذمہ داری یہ نہیں ہے کہ وہ اپنے معاش کا خود بندوبست کرے الا یہ کہ کوئی عورت ایسی ہو کہ اس کا کوئی کمانے والا نہ ہو تو شرعی حدود وقیود کی پابندی کے ساتھ وہ معاش کے لیے بقدر ضرورت نکل سکتی ہے، اس لیے  ایسا بازار بنانا جہا ں خواتین ہی خریدار اور  خواتین ہی دُکان دار ہوں  خواتین  کو تجارت کی طرف راغب کرنا ہے  جو شریعت کے مزاج کے خلاف ہے  لہذا ایسے بازار بنانا  درست  نہیں ہیں ۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143906200023
تاریخ21-02-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں