بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حدیث شریف داووا مرضاکم بالصدقہ کا حوالہ

سوال

'دَاوُوْا مَرْضَآکُمْ بِالصَّدَقَۃِ صدقہ کے ذریعہ اپنے مریضوں کا علاج کرو'۔

 مندرجہ بالا حدیث صحیح ہے؟ اس کا حوالہ کیا ہے؟

جواب

ذکرکردہ حدیث 'المعجم الکبیرللطبرانی '، شعب الایمان للبیہقی' اور'مراسیل ابی داؤد'میں موجود ہے۔البتہ اس حدیث کے بعض راویوں پر محدثین نے کلام کیاہے۔تاہم چوں کہ حدیث موضوع نہیں اور صدقہ کے ذریعہ سے بلاؤں کاٹلنامختلف احادیث میں منقول ہے، جیساکہ ترمذی شریف کی روایت میں ہے:

'عن أنس بن مالك : قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: إن الصدقة لتطفئ غضب الرب وتدفع عن ميته السوء '۔

کہ صدقہ اللہ کے غضب کو ٹھنڈا کرتاہے اور بری موت سے بچاتاہے۔

لہذا مذکورہ حدیث پر عمل کرنایعنی امراض سے تحفظ کے لیے یاامراض کی دوری کے لیے صدقہ دینادرست ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143906200022
تاریخ21-02-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں