بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 جُمادى الأولى 1448ھ 27 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

صوبائی حکومت کی جانب سےدی جانے والی امداد لینے کا حکم

سوال

ہماری صوبائی حکومت ائمہ مساجد کو اعزازیہ کے طور پر دس ہزار روپے ماہانہ دینا چاہتی ہے جب کہ یہاں مذہبی رہنماؤں کے مطابق یہ پیسے نہیں لینا چاہیے، وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ ان پیسوں کی اسمبلی سے کوئی قرار داد منظور نہیں ہوئی ہے، اور محکمہ خزانہ نے کوئی سرکاری فرمان جاری نہیں کیا ہے، اور سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ ائمہ مساجد کی کوئی حیثیت ظاہر نہیں کی گئی ہے، یعنی نہ وہ سرکاری ملازم تصور کیے گیے ہیں، اور نہ ان کو سکیل دیا گیا ہے، اس لیے یہ نہ وظیفہ کے زمرے میں آتا ہے اور نہ اس  کو تنخواہ کہا جا سکتا ہے۔ وظیفہ مستحق اور نادار لوگوں کا حق ہے، جب کہ ائمہ مساجد میں اس کی کوئی تمیز نہیں کی گئی ہے کہ یہ مستحق ہیں یا نہیں؟ اور تنخواہ سرکاری ملازم کو دی جاتی ہے جب کہ یہ سرکاری ملازم تصور نہیں ہوتے، ان کے یہ سارے اعتراضات بالکل درست ہیں، اب سوال یہ ہے کہ کوئی امام یہ اعزازیہ لے سکتا ہے یا نہیں وجہ بھی بتائیں؟

جواب

مذکورہ رقم کی شرعی حیثیت کے تعین کا مدار اس بات پر ہے کہ یہ رقم سرکاری خزانے سے دی گئی ہے، یا کسی پرائیوٹ ادارے یا کسی ملکی وغیر ملکی این جی اوز کے فنڈ سے دی گئی ہے؟ اس تفصیل کی روشنی میں وضاحت کے بعد حتمی جواب دیا جاسکتاہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143906200017
تاریخ20-02-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں