بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کی موجودگی میں سالی سے نکاح جائز نہیں

سوال

کیامیں اپنی بیوہ سالی سے نکاح کرسکتاہوں؟میری بیوی اور تین بچے ہیں ، نکاح کی وجہ ا س کی مدد ہے ۔وہ پاکستان میں آتی ہے تو اپنے گھر میں اکیلی رہتی ہے۔اس کا بیٹا باہر سے واپس نہیں آنا چاہتا۔مہربانی فرماکر راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

بیوی کی موجودگی میں اس کی بہن یعنی سالی سے نکاح کرناجائز نہیں ، دوبہنوں کو بیک وقت نکاح میں جمع کرناحرام ہے ، قرآن کریم میں اس کی صراحت موجود ہے:

وَاَنْ تَجْمَعُوْا بَيْنَ الْاُخْتَيْنِ۔

اور دو بہنوں کا ایک ساتھ (نکاح میں) رکھنا بھی (تم پر حرام ہے)۔(النساء23)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143905200093
تاریخ16-02-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں