بدون نیت لفظ " الاک" کہنے سے طلاق نہیں ہوتی
سوال
میرے والد نے اپنی اہلیہ سے جھگڑے کے دوران ڈانٹتے ہوئے لفظ "الاک" کہا کہ "میں آپ کو الاک کرتا ہوں"، لفظ طلاق نہیں کہا اور اس لفظ سےطلاق کا کوئی ارادہ اور نیت نہیں تھا، اس طرح کہنے سے طلاق واقع ہو گئی یا نہیں ؟
جواب
"میں آپ کو الاک کرتا ہوں"کہنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
143905200083
تاریخ15-02-2018

