بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زکاۃ کی ادائیگی کے لیے کوئی مہینہ مقرر نہیں

سوال

زکاۃ کب ادا کرنی چاہیے؟  کیا زکاۃ کی ادائیگی کے لیے کوئی مہینہ مقرر ہے؟ نیز کتنی نقدی ہو تو زکاۃ فرض ہوتی ہے؟

جواب

زکاۃ کی ادائیگی کے لیے کوئی مہینہ مقرر نہیں، جس دن کسی شخص کی ملکیت میں ساڑے باون تولہ چاندی یا ساڑے سات تولہ سونا یا ان دونوں میں سے کسی بھی نصاب کے برابر نقد رقم یا سامانِ تجارت وغیرہ   آجائے اور  قرض وضرورت سے  زائد ہو تو ہجری (چاند کی تاریخ کے) اعتبار سے اس دن کے ٹھیک  ایک سال بعد اس شخص پر زکاۃ کی ادائیگی  فرض ہوجاتی ہے۔ فقط واللہ اعلم 

\n

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143905200068
تاریخ11-02-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں