''گھر چلی جانا'' سے طلاق کا حکم
سوال
اپنی بیوی سے یہ کہناکہ'' اکر تم نے میرے بہن بھائیوں کو فون کیا تو گھر چلی جانا مجھے طلاق دینے کی ضرورت نہیں خود ہی چلی جانا "اور یہ سب کچھ ڈرانے کے لیے تھا اس کا کیا حکم ہے؟
جواب
اگر واقعۃً شوہر نے یہ الفاظ صرف ڈرانے کے لیے کہے تھے اور طلاق کی نیت نہیں تھی تو ان الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
143905200059
تاریخ09-02-2018

