بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بینک کو کرایہ پر جگہ دینا

سوال

مفتیان کرام کی کیا رائے ہے؟ ہم نے پچھلے  14 سال سے حبیب بینک کو پراپرٹی کرائے پر دے رکھی ہے اور پہلے سے ہی بینک کے لیے بنی تھی، اور جیسا کہ آپ کو  پتا ہے "حبیب بینک"  ایک سودی بینک ہے۔ اس مسئلہ کو واضح فرما کر ممنون فرمائیں۔

جواب

بینک ایک سودی ادارہ ہے جہاں سودی لین دین ہوتاہے جو گناہِ کبیرہ ہے، ایسے سودی ادارےکواپنی جائیداد کرایہ پردینا گناہ کے کام میں معاونت ہے جوکہ شرعاً ناجائزہے، اورجوکرایہ بینک ادا کرے گا،ظاہرہے وہ اپنی سودی آمدنی سے ادا کرے گاجو کہ جائز نہیں۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143905200050
تاریخ06-02-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں