بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ڈاڑھی کاٹنے والی کی اذان اور اقامت / قریب کی مسجد چھوڑ کر دور کی مسجد میں نماز پڑھنا

سوال

1۔ جس شخص کی داڑھی نہ ہو یعنی شیو کرتا ہو تو اس کی اذان اور اقامت کرنا کیسا ہے، مکروہ ہے یا نہیں؟

2۔ اگر ایک مسجدقریب  ہو تو وہ قریب کی  مسجد  چھوڑ کر دوسری مسجد میں نماز پڑھنا کیسا ہے؟

جواب

1۔ شیو کرنے والے شخص کی اذان و اقامت  مکروہ ہے،  اگر اذان یا اقامت کہنے کے لیے کوئی ڈاڑھی والا دِین دار فرد موجود نہ ہو اور ڈاڑھی شیو کرنے والا اذان یا اقامت کہہ دے تو اذان و اقامت ہوجائے گی، دہرانے کی ضرورت نہیں۔

2۔  اگر دور کی مسجد میں نماز پڑھنے کی کوئی شرعی وجہ ترجیح نہیں اور قریب کی مسجد میں کوئی شرعی مانع نہیں تو ایسی صورت میں قریب کی مسجد میں نماز ادا کی جائے ، کیوں کہ اس مسجد کا اہلِ محلہ پر حق ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143905200042
تاریخ05-02-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں