بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فیس تاخیر سے جمع کرانے پر جرمانہ

سوال

اسکول میں دیر سے فیس جمع کرانے میں مالی جرمانہ وصول کیا جاتا ہے، اکاؤنٹنٹ کا کام سب طرح کا حساب کتاب رکھنا ہوتا ہے،مالی جرمانہ وصول کرنا اور اس کا حساب رکھنا کیا اکاؤنٹنٹ کے لیے جائز ہوگا؟

جواب

اسکول کا لیٹ فیس ادا کرنے پر جرمانہ وصول کرنا شرعاً درست نہیں، لہذا اکاؤنٹنٹ کے لیے مالی جرمانہ وصول کرنا اور اس کا حساب رکھنا درست نہیں۔

"والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال"۔ ( كتاب الحدود، باب التعزير ۴/ ٦۱ ط: سعيد) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143905200035
تاریخ03-02-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں