بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فون پر نکاح کا حکم

سوال

 کیا اگر لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کے ساتھ قول اقرار کر لیں دو گواہوں کی موجودگی میں جب کہ نکاح پڑھانے والا خود لڑکا ہے ہو تو کیا ایسے نکاح ہو جاتا ہے ؟ اور نکاح بھی فون پرہوا ہو؟ 

جواب

شرعاً نکاح منعقد ہونے کے لیے  دلہا دلہن یا ان کے وکیل اور دو گواہوں کا ایک ہی مجلس میں موجود ہونا ضروری ہے، فون پر نکاح منعقد نہیں ہوتا۔ فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143905200030
تاریخ31-01-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں