بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک مسجد میں دوسری جماعت کرانا

سوال

میں قطر میں ہوتا ہو ں، اِدھر اکیلے نماز پڑھنے کو عیب سمجھا جاتا ہے.میرا سوال یہ ہے کہ جب جماعت ہوجائے تو اسی مسجد میں دوسری جماعت کراناکیسا ہے؟

جواب

          ایسی مساجدجومحلے کی مساجد ہوں وہاں دوسری جماعت کرانا مکروہ ہے۔اگر  کبھی جماعت رہ جائے تو مسجد کے ایسے حصے میں جو شرعی مسجد کے علاوہ ہو جماعت کروالیں۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143905200009
تاریخ20-01-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں