بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 جُمادى الأولى 1448ھ 27 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حکومت سے غلط بیانی کرکے مال لینا

سوال

ایک بندہ گورنمنٹ ادارے میں کام کرتا ہے، اس کے افسر نے زبردستی اُس سے گاڑی کی لاگ بوک (Log Book) پر دستخط کروائے کہ اُس نے فلاں دن سرکاری کام کے لیے اتنا سفر کیا، حال آں کہ اُس نے وہ سفر نہیں کیا، اس صورت میں گورنمنٹ کا اندازاََ 1000 روپے کا نقصان ہوا۔ اس صورت میں بندہ کو کیا کرنا چاہیے؟ کیا وہ اتنی رقم گورنمنٹ کو واپس کرے یا اپنی تنخواہ سے کٹوائے؟

جواب

آپ اپنے اختیار کے بقدر گناہ گار ہوئے ۔جبر اورزورزبردستی کی وجہ سے دوسرے کامال کھانا جائز نہیں ہوجاتا اوررقم چوں کہ آپ کے استعمال میں نہیں آئی؛ اس لیے اس کاتاوان آپ پر لازم نہیں ہے، احتیاطاً رقم سرکاری خزانے میں جمع کراسکتے ہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143904200098
تاریخ17-01-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں