بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بینک اور انشورنس کمپنی کی املاک خریدنے کا حکم

سوال

بینک یا انشورنس کمپنی کے اثاثہ جات خریدنا جائز ہے یا نہیں؟ انشورنس کمپنیاں ایکسیڈنٹ شدہ گاڑیاں بہت کم ریٹ میں بیچتی ہیں, جس کی بولی لگتی ہے، کیا وہ گاڑیاں خریدنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

انشورنس کمپنی کے پاس جو گاڑیاں وغیرہ ہوتی ہیں وہ عقدِ فاسد کے نتیجے میں حاصل شدہ ہوتی ہیں اور ایسے عقود کا حکم یہ ہے کہ اُس کو فسخ کرنا واجب ہوتا ہے، جب انشورنس کمپنی پر ہی ان معاملات کو فسخ کرنا لازم ہوا اور وہ فسخ کرنے کے بجائے کسی کو بیچ دے تو ایسی صورت میں انشورنس کمپنی سےخرید نے والے کے لیے بھی وہ پاک نہیں رہے گی؛  لہذا اس خریداری سے اجتناب کرنا چاہیے۔

الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 51):
"فصل: في أحكامه
"وإذا قبض المشتري المبيع في البيع الفاسد بأمر البائع وفي العقد عوضان كل واحد منهما مال ملك المبيع ولزمته قيمته" .

اور اگر کوئی شخص اپنی  حلال رقم سے بینک کی املاک خریدنا چاہتا ہے تو اس کی اجازت ہے، وہ اسے خرید سکتا ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143904200097
تاریخ16-01-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں