بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حج کب فرض ہوتا ہے؟ شوہر پر حج فرض ہو تو کیا بیوی پر بھی فرض ہوجاتا ہے؟

سوال

حج کب فرض ہوتا ہے؟ مجھ پر حج فرض ہونے کی صورت میں کیا میری بیوی پر حج فرض ہوجائے گا؟بیوی پر حج کب فرض ہوتا ہے؟

جواب

زندگی میں ایک بار حج اس شخص پر فرض ہوتا ہے جس کے پاس اپنی بنیادی ضرورت (نیز اگر کسی کی کفالت ذمے میں لازم ہو تو  زیرِ کفالت افراد کے خرچے )کے علاوہ فریضہ حج کے تمام سفری اخراجات کے لیے مال موجود ہو۔یہی حکم بیوی کے لیے بھی ہے،  پس اگر شوہر صاحب استطاعت ہو اور بیوی نہ ہو تو حج شوہر پر ہی فرض ہوگا ،بیوی پر حج فرض ہونے کے لیے بیوی کا خود  صاحب استطاعت ہونا شرط ہے ۔

واضح رہے کہ حج پر جانے والی عورت کے ساتھ اگر کوئی محرم اپنے خرچ پر حج کے لیے جانے والا ہو تو عورت پر حج فرض ہوگا، لیکن اگر عورت کا کوئی محرم اپنے خرچ پر ساتھ جانے کے لیے تیار  نہ ہو تو عورت پر حج کی ادائیگی فرض ہونے کے لیے اپنے سفرِ حج کے اخراجات کے ساتھ شوہر یا محرم کے سفرِ حج کے اخراجات کا انتظام کرنا بھی شرط ہوگا، لہٰذا اگر کوئی محرم اپنے خرچ پر ساتھ جانے والا نہ ہو اور عورت کے پاس اپنے اور محرم کے سفری اخراجات نہ ہوں تو اس پر فی الحال حج کی ادائیگی فرض نہیں ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143904200094
تاریخ16-01-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں