بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دھوبی سے کپڑے دھلوانے کا حکم

سوال

(1)  دھوبی سےناپاک کپڑادھلوانےسے کیا کپڑاپاک ہو جائے گا؟

(2) اور کیا اس میں نماز درست ہو جاۓ گی ؟

(3) اگر دھوبی غیر مسلم ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

 1-دھوبی سے کپڑے دھلوانا صحیح ہے، خواہ پاک کپڑے دھلوائے جائیں خواہ ناپاک، عموماً دھوبی پانی کی اتنی مقدار استعمال کرتے ہیں جس سے ناپاک کپڑے پاک ہوجاتے ہیں۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ ناپاک کپڑے پاک کرکے دھوبی کو دھلنے کے لیے دیے جائیں اور دھوبی کو بھی چاہیے کہ وہ دھلائی کے دوران کم از کم آخری مرتبہ بالکل صاف  اور پاک پانی سے کپڑے نکالے ؛ تاکہ کسی قسم کا شبہ باقی نہ رہے۔

2- ان کپڑوں میں نماز ہوجائے گی۔

3-  دھوبی غیر مسلم ہو، لیکن کپڑے عام معروف طریقے سے دھوتا ہو تب بھی یہی حکم ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143904200093
تاریخ15-01-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں