بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زکاۃ ادا کرنے کی ترتیب

سوال

 کیا زکاۃ سال میں ایک دفعہ ہی دی جا سکتی ہے یا زکاۃ کی رقم بارہ مہینوں پہ تقسیم کر کے ہر ماہ بھی دی جا سکتی ہے؟

 

جواب

سال پورا ہونے کے بعد جس قدر جلد ہو زکاۃ ادا کردی جائے (خواہ  یک مشت ادا کی جائے یا قسطوں میں، بہرصورت جس قدر جلدی ہوسکے زکاۃ کا فریضہ ادا کیا جائے) ، البتہ سہولت کےلیے  اگر سال پورا ہونے سے پہلے پہلے ہر ماہ تھوڑی تھوڑی زکاۃ ادا کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143904200068
تاریخ07-01-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں