بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عمرے کے فرائض و واجبات

سوال

ہمارے ہاں اکثر امیر طبقے کے لوگ یا حکمران طبقہ جب عمرہ کرتا ہے تو اپنے بال نہیں منڈواتا، سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح ان کا عمرہ ہوجاتا ہے،کیوں کہ میں نے سنا ہے کہ بال منڈوانا واجب ہے،مہربانی فرما کر عمرے کے واجبات اور فرائض بھی بتا دیں۔

جواب

اگر کوئی شخص سر منڈواتا ہے یا کم از کم چوتھائی سرکے بالوں کو ایک پورے کے بقدرکاٹتا ہے تو اس کا عمرہ  ادا ہوجاتا ہے۔ 

عمرہ میں احرام باندھنا اور طواف کرنا فرض ہے، جب کہ  سعی کرنا اورحلق (سر منڈوانا) یا( کم ازکم ایک پورے کے برابر) بال چھوٹے کرانا واجب ہے۔ 

واضح رہے کہ سوال کرنے کے آداب میں سے ہے کہ سوال عمومی انداز میں یا اپنے متعلق کیا جائے، کسی خاص فرد یا طبقے کے متعلق سوال جب کہ سوال کرنے سے اس طبقے کا فائدہ متعلق نہ ہو  آداب کے خلاف ہے۔ نیز یہ بات بھی تحقیقی ویقینی نہیں ہے کہ اکثر امیر طبقہ سر کے بال نہیں منڈواتا۔ اگراکثر امیر طبقے کا بال نہ منڈوانا حقیقت ہو تو  بھی ممکن ہے کہ ایک پورے کے بقدر چوتھائی سر کے بال کٹوادیتاہو، اس سے بھی وہ احرام سے حلال ہوجائے گا۔  اس لیے سوال کے آداب میں سے ایک ادب یہ بھی ہے کہ تحقیقی بات محتاط الفاظ میں کی جائے، ان آداب کی روشنی میں سائل کو چاہیے کہ عمومی انداز میں سوال کرے، مثلاً یوں سوال کرے: "اگر کوئی شخص عمرہ کرنے کے بعد سر نہ منڈوائے تو کیا اس کا عمرہ ادا ہوجائے گا؟" فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143904200050
تاریخ03-01-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں