بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سوتیلے بھائی کی بیٹی سے نکاح جائز نہیں

سوال

 کیا سوتیلے  ( ماں شریک)بھائی کی بیٹی محرم ہے کہ نہیں؟ کیا اس سے نکاح جائز ہے؟

جواب

سوتیلابھائی(چاہے ماں شریک ہو یاباپ شریک)کی اولاد محارم میں داخل ہے۔"المبسوط "میں ہے:

''والسادس:بنات الأخ تثبت حرمتهن بقوله تعالى: ﴿ وَبَنَاتُ الْأَخِ﴾[النساء: 23] ويدخل في ذلك بنات الأخ لأب وأم أو لأب أو لأم.''(4/362،ط:دارالفکر)

لہذا سوتیلے بھائی کی بیٹی سے نکاح جائزنہیں۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143904200023
تاریخ25-12-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں