بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گاڑی کے میٹر کی مقدار تبدیل کرکے فروخت کرنا

سوال

میں گاڑیوں کا کاروبار کرتاہوں ، اور ہم لوگ گاڑی جاپان سے امپورٹ کرتے ہیں ، جب ہم گاڑی لیتے ہیں تو گاڑی کی  mileage(چلنے کی مقدار جومیٹر ظاہرکررہاہوتاہے)زیادہ ہوتی ہے،اگر اسی میٹرکی زیادہ مقدار کے ساتھ گاڑی بیچیں تو گاڑی بکتی نہیں ہے،اس وجہ سے ہم اس مقدار کوکم کردیتے ہیں ،اور اگر ہم سے کسٹمر معلوم کرے کہ یہ چلنے کی مقدار اصل ہے یانہیں تو ہم بتادیتے ہیں کہ یہ اوریجنل مقدار نہیں ہے, بلکہ تبدیل کی ہوئی ہے،توکیاایسا کرناصحیح ہے؟

جواب

گاڑی جتنی مقداراستعمال ہوئی ہو اس مقدار کو تبدیل کرنے یا کم کرنے سے خریدار دھوکہ میں مبتلاہوتاہے ؛ اس لیے میٹر کی مقدار کو کم کرنا جائز نہیں ہے۔ کسی مسلمان کو دھوکہ دیناسخت مذموم ہے ، حدیث شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے:''جوشخص ہم کو دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں''۔(مشکوۃ المصابیح)

لہذا گاڑی کے چلنے کی مقدار کو اصل حالت پر ہی دہنے دیاجائے ،اصل مقدار برقرار رہنے کی صورت میں بھی گاڑی بک جائے گی، البتہ ممکن ہے کہ سائل کو ظاہری نفع کم ملے، لیکن امانت وصداقت  پر مبنی تجارت  سے ان شاء اللہ آمدن میں برکت بھی ہوگی اور سائل امانت وصداقت کے ساتھ کی جانے والی تجارت کے فضائل کا بھی حق دار ہوگا۔ ایک حدیث میں ہے کہ: "سچا اور امانت دار تاجر (قیامت کے روز) انبیاء کرام، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ ہوگا"۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143904200015
تاریخ24-12-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں