بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کا دودھ غلطی سے منہ میں جانے، اسے پینے اور بیوی کا جسم دیکھنے کا حکم

سوال

 اگر کسی شخص کے منہ میں غلطی سے بیوی کا دودھ چلا جائے اوروہ تھوک بھی دے تو اس کے لیے اسلام میں کیا حکم ہے؟ اگر کوئی غلطی سے بیوی کا دودھ پی لے اس کے لیے اسلام میں کیا حکم ہے؟

کیا بیوی کا جسم دیکھنا جائز ہےیا نہیں؟

جواب

1۔ بیوی کا دودھ غلطی سے منہ میں چلا جائے پھر تھوک دیا یا پی لیابہر صورت نکاح پر اثر نہیں  پڑتا ، البتہ  عمداً بیوی کا دودھ پینا حرام ہے، اس پر توبہ استغفار لازم ہے۔

2۔  بیوی کا جسم دیکھنا جائز ہے ، لیکن زوجین کا ایک دوسرے کی شرمگاہ دیکھنا پسندیدہ نہیں. فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143903200077
تاریخ10-12-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں