بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرآن مجید کی بے حرمتی کرنے والے کا حکم

سوال

قرآن شریف کی بے حرمتی کرنا گناہ ہے پس اگر کوئی شخص قرآن کو اٹھا کر زمین پر پھینکے یا زمین پر مارے  یا شہید کرے یا جلادے پھر اس کے بعد کلمہ بھی پڑھے اور توبہ کرے تو ایسے شخص کے لیے کیا حکم ہے؟

جواب

قرآنِ مجید کی بے حرمتی کرنے سے انسان دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے،  صورت مسئولہ میں قرآن کریم کی بے حرمتی کرنے کی وجہ سے مذکورہ شخص دائرہ اسلام سے خارج ہو گیا تھا، البتہ جب اس نے کلمہ پڑھ لیا اور سچے دل سے اپنے کیے  پر توبہ کرلی تو اس کو مسلمان ہی قرار دیا جائے گا، البتہ اگر وہ شادی شدہ تھا تو تجدیدِ نکاح کرنا بھی ضروری ہوگا۔ فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143903200068
تاریخ07-12-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں