بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نکاح سے قبل تین تولہ سونا اور گھر کی شرط لگانا

سوال

نکاح کے لیے سسرال والوں کی جانب سے یہ شرطیں لگانا کہ لڑکا نکاح سے پہلےتین  تولہ سونا اور جگہ( گھر) لڑکی کے نام کرے تب نکاح کریں گے، کیا اسلام میں یہ جائز ہے ؟ اور اسلام میں اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب

اسلام میں حکم یہ ہے کہ عورت مہر مثل کی مستحق ہے جس کامطلب یہ ہے کہ اس جیسی لڑکی کا اس کے باپ کے خاندان میں جتنا مہر ہو اس لڑکی کا بھی اتناہی مہر مقرر کیا جائے۔اگر لڑکی والے اس سے زیادہ کا مطالبہ کرتے ہیں تو لڑکا رشتے سے انکارکرسکتا ہے، اسی جگہ نکاح کرنا ضروری نہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143903200054
تاریخ01-12-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں