بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 جُمادى الأولى 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ڈیبٹ کارڈ پر ڈسکاؤنٹ- اشکال

سوال

میں نے ڈیبٹ کارڈ کے حوالے سے سوال کیا تھا، جس کا جواب آپ نے دیا ، اب مجھے یہ پوچھنا ہے کہ اگر ڈسکاؤنٹ کمپنی کی طرف سے ہو پھر بھی وہ ڈسکاؤنٹ بینک کارڈ کی وجہ سے ہوگا; کیوں کہ اگر آپ کے پاس اس بینک کا کارڈ نہ ہوتا تو ڈسکاؤنٹ نہیں ملتا.  اس صورت میں ڈیبٹ کارڈ پر ملنے والے ڈسکاؤنٹ کے استعمال کا کیا حکم ہوگا؟

جواب

ڈیبٹ کارڈ پر مذکورہ ڈسکاؤنٹ اگر کمپنی دے رہی ہو تو یہ کمپنی کی جانب سے صارف پر تبرع اور احسان ہوگا،  کمپنی کو اختیار ہے کہ وہ جس کے ساتھ چاہے احسان کا معاملہ کرے ، اگر کمپنی  اپنے احسان (ڈسکاؤنٹ) کے  مستحق ہونے کے لیے  بینک کے ڈیبٹ کارڈ ہونے کو معیار بنا رہی ہے تو اس میں قباحت نہیں ہے،  ایسا ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا جائز ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 143903200042
تاریخ29-11-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں