بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سرکاری ملازم کی وفات پر ادارہ سے ملنے والے فنڈ میں اجرائے وراثت کا حکم

سوال

محمد سرکاری ملازم تھا,جوکہ اب انتقال کرچکاہے. متوفی کے  اہلِ خانہ (جوکہ متوفی کی بیوہ، 2بیٹے 2بیٹیاں ہیں ) کو متعلقہ سرکاری محکمے کی طرف سے فنڈملاہے. مسئلہ یہ پوچھناہے: کیامذکورہ فنڈمیں متوفی کےوالدین کاکوئی شرعی حق بنتاہے یانہیں؟ اگربنتاہے تو والدین کوکل فنڈمیں کتناحصہ ملے گا؟

جواب

محکمے کی طرف سےملنے والے فنڈ مختلف قسم کے ہوتے ہیں؛ اس لیے حکم بھی ہر ایک کا مختلف ہوتا ہے۔ اگرفنڈصرف بیوہ یا اولاد کے لیے مخصوص ہے،  جیسا کہ گریجویٹی یا بینوولنٹ فنڈ تو پھر یہ سب کچھ اُسی کو ملے گا جس کے لیے انہوں نے مخصوص کر دیا۔اس کے علاوہ  پراویڈنٹ فنڈ اور ایمپلائز ویلفئر فنڈ ملازم کا ترکہ ہے جو  اس کے پس ماندگان میں وراثت کے اصولوں کے تحت تقسیم  ہوگا، چناں چہ اگر یہ دوسری صورت ہےکہ : اس فنڈ کو اولاد یا بیوہ کے لیے مخصوص نہیں کیا گیا تو مرحوم محمد کے والدین میں سے ہر ایک کو اس فنڈ اور دیگر ترکہ میں سے چھٹا حصہ دیا جائے گا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143903200011
تاریخ22-11-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں