نکاح سے قبل یہ کہنا اپنی مرضی کرو آزاد ہو
سوال
نکاح سے پہلے لڑکا کسی بات پر ناراض تھا،لڑکی نے کچھ پوچھا تو لڑکے نے کہا: اپنی مرضی کرو آزاد ہو ،پھر بولا: شادی کے بعد بھی اپنی مرضی کرو آزاد ہو۔ اب اگر ان کا نکاح ہوگیا لیکن رخصتی نہیں ہوئی تو کیا طلاق ہوگئی ؟اگر ہوگئی تو کون سی اور عدت ہے کہ نہیں؟
جواب
نکاح سے پہلے بولے گئے ان الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
143902200096
تاریخ19-11-2017

